Urdu poetry on “Karbala” | Karbala Poetry | Urdu Poetry 2023

میدان کربلا میں تشنگی تھی بے حساب 1
اصغر کی پیاس بجھ گئی میداں میں تیر کھا کر

2

آب و دانہ مرے حسین ؓ کا ہے
سب خزانہ مرے حسین ؓ کا ہے

ہر صدی پاک پنجتن کی ہے
ہر زمانہ ،مرے حسینؓ کا ہے

مثل ہوکوئی اس کی ناممکن
وہ گھرانہ مرے حسین ؓ کا ہے

کاٹ لو چاھے سر جھکے گا نہیں
سر اٹھانا مرے حسین ؓ کا ہے

کھایا ہے جو حلق پہ اصغرؓ نے
تیر کھانا مرے حسین کا ہے

انگلیاں دیکے منہ میں اصغرؓ کے
کیا پلانا مرے حسین ؓ کا ہے

ہو بہو ہے ، وہ چہرہ ء احمد ﷺ
سب نے مانا مرے حسین ؓ کا ہے

سیر ہو کر ، پیا بہتّر نے
یہ میخانہ مرے حسینؓ کا ہے

سرّی جہری شہادتیں پائیں
ہاں وہ نانا مرے حسینؓ کا ہے

اک لعیں پر ہے شیطنت طاری
خوں بہانا مرے حسینؓ کا ہے

آگ میں جاتے حر ؓ کو دی جنت
کیا بچانا ، مرے حسینؓ کا ہے

سہہ کے جوروستم ، دعا ہی دی
دل خزانہ مرے حسینؓ کا ہے

دیکھ تیور یزیدی لشکر کے
مسکرانا مرے حسینؓ کا ہے

تیرگی میں چراغِ منزل یہ
شامیانہ مرے حسینؓ کا ہے

روئے قاسمؓ کو دیکھ سب بولے
یاد آنا ، مرے حسینؓ کا ہے

سر کٹالو نہ شر کے آگے جھکو
یہ بتانا مرے حسینؓ کا ہے


زندگانی کی ، ہار کر بازی
جیت جانا مرے حسینؓکا ہے

اپنے خوں کے وضو سے عصر پڑھی
سر جھکانا ، مرے حسینؓ کا ہے

مصطفی کو قبول ، طول ِ نماز
کیا منانا مرے حسینؓ کا ہے

نیزے پر بھی خدا کا پاک کلام
کیا سنانا ! مرے حسینؓ کا ہے

ہوگیا دین تاابد زندہ
سر کٹانا مرے حسینؓ کا ہے

جاں علیؓ پر فدا ، مری مفتی
دل دِوانہ مرے حسینؓ کا ہے

3

حسینؓ اِک بندہ ء مہر و وفا ، ایثار کا پیکر
وہ نورِ نظرِ زہرہؓ اور گلابِ گلشنِ حیدرؓ

گھرانہ ہے یہ نبیوں کا ، گھرانہ ہے اماموں کا
نہ حب زیست ہے ان میں نہ مرجانے کا کوئی ڈر

دلِ شبیرؓ کی حالت ، بیان لفظوں میں ناممکن
ھوا ھوگا جو اوجھل چشمِ شاہؓ سے روضہء اطہرﷺ

لٹاکے اپنا سارا گھر، بچایا دین کو جس نے
وہ سبطِ مصطفی ہے ، اور ابنِ فاتحِ خیبر

نقابِ قوتِ باطل کا پردہ چاک کرڈالا
ہے فخرمستوراتِ تا ابد زہرا ؓ کی یہ دخترؓ

مرا ایمان ہے کامل ، غمِ شبیرؓ میں آنسو
ضمانت میری بن جائیں گے بہرِ خلدوکوثر

شہادت تھی حسنؓ کی ، مصطفی کی سری شہادت
کہ اب شبیرؓ نے جہری شہادت دی کٹا کے سر

دیا پیغام اس نے ، ہر لعینِ وقت کو مفتی
کہ لاکھوں کے مقابِل بھی فتح پاتے ہیں بہتر

3

میں جب منظر کربلا دیکھتا ہوں
لہو سیدوں کا بہا دیکھتا ہوں

وہ حلقومِ اصغر کی ، بے چینیاں
جو تیروں سے چھلنی ھوا دیکھتا ہوں

وہ قاسم جو سرتا پا ، شکلِ محمدﷺ
انہیں خاک و خوں میں اٹا دیکھتا ہوں

ہیں عباس پیاسے مگر لڑ رہے ہیں
عجب صبر شبیر کا دیکھتا ہوں

گرا جب وہ اسوارِ شانہء احمدﷺ
سواری کو روتا ہوا دیکھتا ہوں

ہوئے نذرِ آتش جو خیام سادات
میں دل گیر آہ و بکا ، دیکھتا ہوں

وہ بوسہ گہِ ، سرورِ ہر دو عالمﷺ
اسی سر کو نیزہ برآ دیکھتا ہوں

ترا دیں بچانے کی کاوش میں مفتی
محمدﷺکا گھر سب لٹا دیکھتا ہوں
 

Leave a Comment